بنگلورو،31؍جنوری(ایس او نیوز)شہر بنگلورو میں سرکاری زمین پر تعمیر شدہ غیر قانونی مذہبی مقامات کی نشاندہی کر کے ان کو وہاں سے ہٹانے کے لئے کارروائی کرنے کے لئے کرناٹک ہائی کور ٹ نے برہت بنگلورو مہا نگر پالیکے کو مہلت دی ہے۔
اس سلسلہ میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ابھے سرینواس اوکا کے سامنے ہوئی ورچوئل سماعت کے دوران بی بی ایم پی کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ 21تا23جنوری بی بی ایم پی کی طرف سے وارڈ سطح پر غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے مذہبی مقامات کی نشاندہی کروائی گئی ہے۔
عدالت کوبتایا گیا کہ شہر میں عوامی مقامات پر جملہ 1588مذہبی مقامات موجود ہیں، ان میں سے 1337کی تعمیر سپریم کورٹ کی طرف سے طے شدہ رہنما خطوط کے مطابق 29ستمبر 2009سے قبل جو عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں ان کی تعداد 1337ہے، جبکہ باقی کی تعمیر ا ن کے بعد کی گئی ہے۔
اس مرحلہ میں چیف جسٹس نے بی بی ایم پی کو ہدایت دی کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق جتنی بھی عمارتیں غیر قانونی مذہبی عمارتیں ہیں ان کی فہرست تحریری طور پر عدالت میں جمع کروائی جائے۔انہوں نے کہا کہ بی بی ایم پی کو عدالت کی طرف سے یہ آخری مہلت دی جا رہی ہے، اس کے بعد مہلت میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ شہر کے ان تمام مقامات کا جہا ں مذہبی مقامات سرکاری املاک پر غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے ہیں، ان کا جائزہ لے کر رپورٹ جمع کرنے کے لئے بی بی ایم پی کو تین ہفتوں کی مہلت دی جا رہی ہے۔26فروری کو عدالت نے اس معاملہ کی اگلی سماعت طے کی ہے اورکہا ہے کہ اس مرحلہ میں بی بی ایم پی حلف نامہ کی شکل میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروائے۔